کراچی: شہر میں کبوتروں سے پھیلنے والی پھیپھڑوں کی بیماری میں تشویش ناک اضافہ ہو گیا ہے۔ روزانہ 15 سے 20 مریض اسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں، جن میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ ایک جانب جہاں لوگ کبوتروں کو دانہ ڈال کر خوشی محسوس کرتے ہیں، وہیں ان کے پروں اور فضلے کے ذرات انسانوں میں پھیلنے والی بیماری کا باعث بن رہے ہیں۔
کمشنر کراچی کی ہدایت پر حاظم بھنگوار نے عبداللہ ہارون روڈ کو ماڈل سڑک بنانے کا بیڑا اٹھا لیا
ماہرین کے مطابق، کبوتروں کے فضلے اور پروں کے ذرات جب سانس کی نالی میں جمع ہو جاتے ہیں تو وہ "برڈ فینسرز لنگز” کی بیماری کا سبب بنتے ہیں۔ یہ بیماری خاص طور پر ان جگہوں پر پھیل سکتی ہے جہاں کبوتروں کا آنا جانا زیادہ ہو، جیسے کھڑکیاں، ایئر کنڈیشنر کی جگہیں یا کبوتروں کے چھپنے کی دیگر جگہیں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بیماری سے بچنے کے لئے کبوتروں کے قریب جانے سے پہلے ماسک کا استعمال ضروری ہے تاکہ انسانی صحت کو محفوظ رکھا جا سکے