نئی دہلی — بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں حالیہ حملے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صورتحال نے بھارتی فوج اور حکومت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق، لیفٹیننٹ جنرل ایم وی ایس کمار کو نہ صرف ان کے عہدے سے سبکدوش کر دیا گیا ہے بلکہ ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل پراتک شرما کو یکم مئی سے ناردرن کمانڈ کی کمان سونپ دی جائے گی۔
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جنرل کمار نے پہلگام واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف فوری کارروائی سے انکار کر دیا تھا، جس پر مودی سرکار سخت برہم ہوئی۔ جنرل کمار کے انکار کو سیکیورٹی اداروں اور حکومتی پالیسی میں واضح اختلاف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس صورتحال کے بعد لیفٹیننٹ جنرل کمار کو نہایت عجلت میں ایک خصوصی طیارے کے ذریعے نئی دہلی منتقل کر دیا گیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ وہاں ان کی آرمی چیف کے ساتھ ’کونسلنگ‘ کی جائے گی اور ان کے خلاف فوجی عدالت میں کارروائی کا بھی امکان ہے۔ وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس تمام معاملے پر فوری اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔
یہ واقعہ بھارتی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے مبینہ فالز فلیگ آپریشن پر کئی سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف بھارت کی عسکری قیادت کے اندرونی خلفشار کو ظاہر کرے گا، بلکہ علاقائی امن اور بھارت کی عالمی ساکھ پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
بھارت کی 7 لاکھ سے زائد فوج، پیراملٹری فورسز، پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیاں جموں و کشمیر میں سرگرم عمل ہونے کے باوجود اس حملے کو روکنے میں ناکام رہیں، جس پر اندرونِ ملک اور بیرونِ دنیا میں تنقید بڑھتی جا رہی ہے۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ بھارت کی حکومت اور فوج اس بحران سے کیسے نمٹتی ہے، اور کیا یہ تنازعہ کسی بڑی سیاسی یا عسکری تبدیلی کی پیش خیمہ بنے گا۔
