کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ کراچی نے استعمال شدہ کپڑوں (لنڈا) کی آڑ میں بھاری مقدار میں غیر ملکی کپڑے کی اندرون ملک اسمگلنگ کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔
عثمان وزیر کا شاندار کامیابی کے بعد کراچی ایئرپورٹ پر والہانہ استقبال
کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ جناب معین الدین احمد وانی کو مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ بلوچستان سے اسمگل شدہ غیر ملکی کپڑا ممکنہ طور پر لنڈے کی آڑ میں کراچی سے لاہور منتقل کیا جا رہا ہے۔ اطلاع پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایڈیشنل کلکٹر باسط حسین اور ڈپٹی کلکٹر اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن (ASO) سید محمد رضا نقوی کو ہدایات جاری کی گئیں، جس کے تحت ASO کی ٹیموں نے سخت نگرانی اور پٹرولنگ میں اضافہ کر دیا۔
گزشتہ روز آر سی ڈی ہائی وے پر اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن کی ٹیم نے ایک ٹرالر (رجسٹریشن نمبر JP-8287) کو روکا، جس پر 40 فٹ کا کنٹینر لوڈ تھا۔ ڈرائیور نے استعمال شدہ کپڑوں (لنڈا) کی بلٹی پیش کی، لیکن شک کی بنیاد پر کنٹینر کھول کر معائنہ کیا گیا تو اس میں نئے غیر ملکی کپڑوں کے رولز اور بنڈلز موجود پائے گئے۔
ٹرالر کو تحویل میں لے کر ASO کے گودام منتقل کیا گیا، جہاں تفصیلی جانچ کے نتیجے میں ساڑھے چھ کروڑ (65,000,000) روپے مالیت کا غیر ملکی کپڑا برآمد ہوا۔ برآمد شدہ سامان کی تفصیل درج ذیل ہے:
2170 کلوگرام لنڈا
2500 کلوگرام صوفہ کلاتھ
11755 کلوگرام جے کارڈ فیبرک
2600 کلوگرام ایمبرائڈ نیٹ فیبرک
1400 کلوگرام ایمبرائڈ ڈائڈ ٹیکسٹائل فیبرک
برآمد شدہ مال کو ضبط کر کے کسٹمز ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

