اسلام آباد — وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ دریائے سندھ پر مجوزہ نہری منصوبہ فی الحال روک دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جب تک مشترکہ مفادات کونسل (CIC) میں مکمل باہمی رضا مندی نہیں ہوتی، کوئی نہر تعمیر نہیں کی جائے گی۔
بولٹن مارکیٹ پر کامیاب چھاپہ: اسمگل شدہ سامان برآمد، 46.8 ملین مالیت کی اشیاء ضبط
وزیر اعظم نے کہا کہ آئندہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس 2 مئی کو منعقد ہو گا جس میں اس اہم معاملے پر فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین کے مابین افہام و تفہیم اور بات چیت سے ہی مسائل حل کیے جائیں گے۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان ایک فیڈریشن ہے، اور وفاقی نظام کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں جن کا احترام ضروری ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر کہا کہ وزیراعظم نے نہ صرف ان کی شکایات کو سنا بلکہ پیپلز پارٹی کے اصولی مؤقف کو بھی تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ باہمی اتفاق رائے کے بغیر کوئی بھی نہری منصوبہ آگے نہیں بڑھے گا۔
بلاول بھٹو نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور دیگر اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور بھارت کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
