قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور تحریک انصاف کے سینئر رہنما عمر ایوب خان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے اقدام کو پاکستان کے خلاف "اعلان جنگ” قرار دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ معاہدے کی معطلی کے بعد ہر گزرتا لمحہ پاکستان کے لیے ایک ٹائم بم کی مانند ہے۔
وزارتِ خزانہ کی رپورٹ جاری: مئی میں مہنگائی میں اضافہ متوقع، مارچ میں شرح 3 دہائیوں کی کم ترین سطح پر
عمر ایوب خان نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی کوئی سمت نہیں اور ملکی سالمیت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ نازک صورتحال کے پیش نظر سابق وزیراعظم عمران خان کو فوری طور پر رہا کیا جائے تاکہ قومی اتحاد ممکن بنایا جا سکے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے بھی اپنے بیان میں بھارت کے رویے کو "افسوسناک” اور "قابل مذمت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلگام واقعے کو بھارت ایک سازش کے تحت پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت اپنے مذموم عزائم کے تحت خطے کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ موجودہ حالات میں قومی اتفاق و اتحاد ناگزیر ہے اور اس مقصد کے لیے عمران خان کی قیادت میں پوری قوم متحد ہو سکتی ہے۔ انہوں نے موجودہ حکومت کو فارم 47 کی بنیاد پر قائم "جعلی حکومت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
