کیا ہم گندم جلا دیں کسان اتحاد کا گندم بحران پر حکومت سے سخت شکوہ

لاہور پریس کلب میں پاکستان کسان اتحاد کے سربراہ خالد حسین کھوکھر نے ایک اہم پریس کانفرنس میں گندم بحران پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کی آواز کوئی نہیں سن رہا، حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ کسان یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اگلی فصل کہاں سے اگائیں۔
اننت ناگ حملہ پاکستان کا گہرا اظہار افسوس، 26 سیاحوں کی ہلاکت پر تشویش

خالد کھوکھر نے سوال اٹھایا کہ جب فی من لاگت 3400 روپے ہو اور قیمت صرف 2000 روپے دی جائے تو کاشتکار کیسے زندہ رہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف کسی ایک صوبے یا ضلع کا نہیں بلکہ پورے ملک کی فوڈ سیکیورٹی کا معاملہ ہے، جو بدقسمتی سے پاکستان میں اولین ترجیح نہیں ہے۔

انہوں نے طنزاً کہا کہ "چینی والے زیادہ محب وطن ہیں؟ کسان سال بھر دن رات محنت کرتا ہے، مگر اسے اس کا صلہ نہیں ملتا۔ آج کسان کے گھر میں صفِ ماتم بچھا ہے کیونکہ اس کی واحد امید گندم سے تھی۔”

خالد کھوکھر نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسانوں سے ملنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گندم امپورٹ کر کے ڈالر کمائے گئے مگر کسی بھی قسم کی انکوائری نہ ہوئی۔ “جس شخص کا کسانوں سے کوئی تعلق نہیں، اسے ذمے داری دے دی گئی ہے۔”

ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو آئندہ سال گندم کی پیداوار میں شدید کمی آئے گی، جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم کسان لوگ ہیں، لسی چٹی کھا لیں گے، مگر عوام کیا کرے گی؟”

55 / 100 SEO Score

One thought on “کیا ہم گندم جلا دیں کسان اتحاد کا گندم بحران پر حکومت سے سخت شکوہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!