پاکستان نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے اننت ناگ میں سیاحوں پر ہونے والے مہلک حملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جس میں کم از کم 26 افراد ہلاک ہوئے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت خان نے بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں مرنے والوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
مشعال ملک نے پہلگام حملے کو بھارتی میڈیا اور “را” کا مشترکہ ڈرامہ قرار دے دیا
یہ افسوسناک واقعہ پہلگام میں پیش آیا، جو کہ وادی کشمیر کا ایک معروف سیاحتی مرکز ہے۔ ہر سال گرمیوں کے موسم میں یہاں ہزاروں سیاح آتے ہیں، کیونکہ حالیہ برسوں میں خطے میں عسکریت پسندی میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ تاہم، اس حملے نے اس تصور کو دھچکا پہنچایا ہے کہ علاقہ محفوظ ہو چکا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ گزشتہ دو دہائیوں میں شہریوں پر ہونے والا سب سے مہلک حملہ ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں بھارتی بحریہ کا ایک افسر اور کچھ غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اس حملے کو "گھناؤنی کارروائی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجرموں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھارت کے دورے پر موجود تھے، جن کی مودی سے ملاقات حملے سے ایک دن قبل ہوئی تھی۔ متاثرین کا تعلق بھارت کے مختلف علاقوں سے بتایا گیا ہے جن میں مہاراشٹر، تمل ناڈو اور کرناٹک شامل ہیں۔
پہلگام، سرینگر سے تقریباً 90 کلومیٹر دور واقع ہے اور یہ علاقہ امرناتھ یاترا کے راستے میں آتا ہے۔ اس علاقے کو اب تک نسبتاً محفوظ تصور کیا جاتا تھا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق حملے کی ذمہ داری ایک نامعلوم تنظیم نے قبول کی ہے، جسے بھارتی ادارے ‘مزاحمتی محاذ’ کے نام سے جانتے ہیں۔
یہ واقعہ ماضی کی ایک اور یاد تازہ کرتا ہے، جب سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے دورہ بھارت سے قبل 2000 میں ایک اور حملے میں 36 افراد مارے گئے تھے۔ اس وقت بھی حملے کے ذمہ داروں کے حوالے سے کئی تنازعات جنم لے چکے تھے۔
