خلیل الحیا حماس اب عبوری معاہدے نہیں چاہتی، غزہ میں مکمل جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی پر جامع مذاکرات کا مطالبہ

رائٹرز کے مطابق، حماس کے رہنما اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ خلیل الحیا نے ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گروپ اب کسی بھی عبوری یا جزوی معاہدے پر تیار نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حماس صرف ایسے "جامع پیکیج مذاکرات” میں شامل ہوگی، جن میں جنگ کے مکمل خاتمے، اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی رہائی، اور غزہ کی تعمیر نو جیسے اہم نکات شامل ہوں۔
ڈومینک سولانکے کی پنالٹی نے ٹوٹنہم کو فرینکفرٹ کے خلاف فتح دلائی، یوروپا لیگ سیمی فائنل میں رسائی

خلیل الحیا نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جزوی معاہدوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، تاکہ تباہی اور بھوک کی جنگ کو جاری رکھا جا سکے، چاہے اس کی قیمت ان کے تمام قیدیوں کی جان کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا، "ہم ایسی پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے۔”

دوسری جانب، غزہ میں شہری دفاع کے محکمے کے مطابق، خان یونس کے قریب اسرائیلی حملے میں رات بھر کے دوران 10 فلسطینی شہید ہوگئے۔ ترجمان محمود باسل نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ ان کے عملے نے بنی سہیلہ کے علاقے میں برکا خاندان کے گھر اور دیگر قریبی عمارتوں سے 10 شہداء کی لاشیں اور متعدد زخمیوں کو نکالا۔

علاوہ ازیں، اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، جمعرات کے روز غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 40 فلسطینی شہید ہوئے۔

58 / 100 SEO Score

One thought on “خلیل الحیا حماس اب عبوری معاہدے نہیں چاہتی، غزہ میں مکمل جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی پر جامع مذاکرات کا مطالبہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!