کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن کے حالیہ بیان پر سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے سخت ردعمل دیا ہے اور صوبائی حکومت پر گورننس کی ناکامی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
پاکستان معدنی معیشت میں عالمی رہنما بننے کے لیے تیار ہے، آرمی چیف
علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ سندھ بھر میں پینے کا صاف پانی کسی ایک ضلع یا یوسی میں بھی میسر نہیں، جب کہ صحت کے شعبے کی حالت یہ ہے کہ اگر عالمی امداد واپس لے لی جائے تو پورا نظام بیٹھ جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما خود نجی اسپتالوں میں علاج کرواتے ہیں جبکہ عوام کے لیے سرکاری اسپتال کسی اذیت سے کم نہیں۔ تعلیم کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے کے 70 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔
علی خورشیدی نے کراچی کے تباہ حال انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ کے مسائل پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمی بینک کے مطابق شہر کو 15 ہزار بسوں کی ضرورت ہے لیکن گزشتہ 17 سالوں میں صرف 400 بسیں فراہم کی گئیں۔
انہوں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ اس ادارے کی خود ساختہ قانون سازی نے تباہی کو جنم دیا ہے۔
اپنے بیان کے اختتام پر علی خورشیدی نے کہا کہ 2024 کے عام انتخابات نے ثابت کر دیا ہے کہ عوام نے پیپلز پارٹی کو مسترد کر دیا ہے اور آئندہ بلدیاتی انتخابات میں کراچی سے پیپلز پارٹی کو مکمل شکست ہوگی۔
