اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف بدعنوانی مقدمہ مؤخر، غزہ پر وحشیانہ بمباری جاری

اسرائیلی اخبار ماریو کے مطابق استغاثہ نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے مقدمے میں ان کی گواہی منسوخ کرنے کی درخواست قبول کرلی ہے۔ نیتن یاہو نے یہ درخواست منگل کے روز اس وقت دی جب وہ غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں کی نگرانی کر رہے تھے۔
اسرائیل کی غزہ پر وحشیانہ بمباری، سینکڑوں فلسطینی شہید

نیتن یاہو پر رشوت خوری، دھوکا دہی اور اعتماد کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں، اور وہ طویل عرصے سے زیر التوا تین مقدمات میں سے ایک میں عدالت کے روبرو پیش ہو چکے ہیں، جسے وہ سیاسی انتقامی کارروائی قرار دیتے ہیں۔

دریں اثنا، نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مشاورت کے بعد غزہ پر جنگ بندی کو ختم کرتے ہوئے شدید بمباری کا حکم دیا، جس میں اب تک کم از کم 308 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جب کہ درجنوں زخمی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فورسز کی مسلسل بمباری کے باعث غزہ شہر دھماکوں سے لرزتا رہا۔ اسرائیلی حملے اس وقت کیے گئے جب لوگ اپنے گھروں، پناہ گزین کیمپوں اور اسکولوں میں سو رہے تھے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 232 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے ہیں، جب کہ طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اصل تعداد 308 سے تجاوز کر چکی ہے۔

حماس نے اسرائیلی جارحیت کو جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی اور محصور شہریوں پر "غدارانہ حملہ” قرار دیا ہے، جبکہ فلسطینی اسلامی جہاد (PIJ) نے اسرائیل پر جنگ بندی کو جان بوجھ کر سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر اور وزیر دفاع اسرائیل کارٹز نے دھمکی دی ہے کہ اگر تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کیا گیا تو غزہ پر "جہنم کے دروازے” کھول دیے جائیں گے، اور بمباری جاری رہے گی۔

اسی صورتحال کو جواز بنا کر نیتن یاہو نے عدالت سے اپنے مقدمے کی سماعت مؤخر کرنے کی درخواست کی، جسے منظور کر لیا گیا۔

One thought on “اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف بدعنوانی مقدمہ مؤخر، غزہ پر وحشیانہ بمباری جاری

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!