ایکس پر پابندی کیس لاہور ہائی کورٹ نے وزارت داخلہ اور پی ٹی اے سے رپورٹ طلب کرلی، سماعت 20 مارچ تک ملتوی

لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے صحافی شاکر محمود اعوان اور دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں پر اہم سماعت کی۔ درخواستوں میں وفاقی حکومت، وزارت قانون، وزارت اطلاعات اور دیگر اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔
ڈی آئی خان مسجد میں بم دھماکہ، حملے کا ہدف جے یو آئی وانا کے امیر مولانا عبداللہ ندیم تھے: آر پی او اشفاق انور

دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد باجوہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وزارت داخلہ کی ہدایات پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابق ٹوئٹر) پر پابندی عائد کی۔

اس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ وزارت داخلہ کو موجودہ صورتحال پر عدالت کو آگاہ کرنا ہوگا کہ ‘ایکس’ پر پابندی کے باوجود اسے کون استعمال کر رہا ہے اور اس کی حیثیت کیا ہے؟

جسٹس علی ضیا باجوہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ‘ایکس’ بند ہونے کے باوجود استعمال ہو رہا ہے تو ذمہ دار کون ہے؟

پی ٹی اے کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عوام وی پی این (VPN) کے ذریعے ‘ایکس’ استعمال کر رہے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کون سے سرکاری ادارے ‘ایکس’ استعمال کر رہے ہیں؟ اور کیا ‘ایکس’ کی حیثیت قانونی ہے یا غیر قانونی؟

عدالت نے تمام فریقین کو تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے پی ٹی اے کے ذمہ دار افسر کو آئندہ سماعت پر ریکارڈ سمیت پیش ہونے کی ہدایت کی۔

شاکر محمود اعوان کے وکیل کی طرف سے کیس کو سنگل بینچ کو بھیجنے کی استدعا کی گئی تاکہ اگر فیصلہ خلاف آئے تو دو رکنی بینچ میں اپیل کی جا سکے، تاہم فل بینچ نے سماعت جاری رکھتے ہوئے کیس کو 20 مارچ تک ملتوی کر دیا۔

عدالت نے وزارت داخلہ سے ‘ایکس’ کے استعمال سے متعلق رپورٹ اور پی ٹی اے کی ورکنگ رپورٹ طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت میں وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

64 / 100 SEO Score

One thought on “ایکس پر پابندی کیس لاہور ہائی کورٹ نے وزارت داخلہ اور پی ٹی اے سے رپورٹ طلب کرلی، سماعت 20 مارچ تک ملتوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!