طالبان کے کمانڈرز کھلے عام تاجکستان پر دعوے اور دھمکیاں دے رہے ہیں، جو ان کی توسیع پسندانہ سوچ اور علاقائی امن و استحکام کے لیے شدید خطرے کی عکاسی کرتا ہے۔
جعفر ایکسپریس حملہ: سیکیورٹی فورسز نے تمام مغویوں کو بازیاب کرا لیا، ہلاک دہشت گردوں کی تصاویر جاری
تفصیلات کے مطابق، طالبان حکومت، جو ماضی میں عدم مداخلت کا وعدہ کرتی رہی ہے، اب ہمسایہ ممالک کو دھمکانے پر اتر آئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو تسلیم کرنا چاہیے کہ طالبان کے عزائم افغانستان کی سرحدوں سے باہر تک پھیلے ہوئے ہیں۔
تاجکستان کو کمزور سمجھتے ہوئے اور روسی دفاعی اثر و رسوخ کو نظر انداز کرتے ہوئے طالبان کمانڈر لاپرواہی سے علاقائی تنازعات کو ہوا دے رہے ہیں، اور سفارت کاری اور پرامن بقائے باہمی کو یکسر مسترد کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ طالبان کا یہ خطرناک اعتماد دوحہ معاہدے کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، جہاں انہیں عالمی سطح پر قانونی حیثیت تو دی گئی، لیکن جوابدہی کا کوئی مؤثر نظام نہ بنایا گیا۔
ماہرین کے مطابق، یہ عالمی برادری کے لیے سبق ہے کہ خوشامد اور رعایتیں صرف شدت پسندی اور جارحیت کو فروغ دیتی ہیں۔ اگر طالبان اپنے اندرونی دھڑوں کو بھی جنگ کی دھمکیوں سے روکنے کے قابل نہیں، تو پھر انہیں ایک ذمہ دار حکومت کے طور پر کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے؟
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایسی حکومت جو اقتصادی ترقی اور مؤثر حکمرانی کے بجائے عسکری فتوحات کا خواب دیکھتی ہے، پورے خطے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ طالبان کی ترجیحات ان کے اصلاحات کے دعووں کی نفی کرتی ہیں، جو ان کے عزائم کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لاتی ہیں۔
