کراچی (پریس ریلیز): کراچی کے پوش علاقے کلفٹن میں قائم معروف شاپنگ مال پارک ٹاور کے اندرونی دکانوں کے گرد غیر قانونی تجاوزات بدستور قائم ہیں، جن کے باعث دکان مالکان شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔
دکانوں کے اطراف کے الیکٹرک کا سب اسٹیشن پارکنگ ایریا میں قائم کیا گیا ہے جبکہ لفٹ ایریا پر تاروں کا خطرناک جال کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔
دکانوں کے مالک محمد اقبال خیمانی نے بتایا کہ کئی بار سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو تحریری طور پر آگاہ کیا گیا لیکن تاحال تجاوزات کا خاتمہ نہ ہوسکا۔
محمد اقبال خیمانی نے معاملہ رینٹ کورٹ میں بھی اٹھایا، جہاں عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے بلڈر عثمان ستار ٹرنک والا کو کمرشل کرایہ ادا کرنے اور تجاوزات ختم کرنے کا حکم دیا، مگر عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
بلڈر کی جانب سے دکانداروں سے پانی، سیوریج اور پراپرٹی ٹیکس کی مد میں 15 فیصد رقم وصول کی جاتی ہے، مگر یہ رقوم نہ ایف بی آر میں جمع ہوتی ہیں اور نہ واٹر بورڈ کو دی جاتی ہیں۔
معاملہ 2020 سے سندھ ہائی کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے، جہاں رینٹ کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی گئی، مگر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
وفاقی محتسب اعلیٰ نے بھی متاثرہ شہری محمد اقبال خیمانی کے حق میں فیصلہ دیا، مگر نہ تو کرایہ ادا کیا جا رہا ہے اور نہ ہی سب اسٹیشن ہٹایا گیا۔
دکانوں کے اطراف موجود بجلی کے تار، غیر محفوظ لفٹ کی تنصیب اور دیگر تجاوزات کے باعث دکانوں کی راہ مکمل طور پر بند ہوچکی ہے، جس پر دکان داروں کا کہنا ہے کہ خریداروں کی عدم رسائی کے باعث دکانیں بند پڑی ہیں۔
متعلقہ سب اسٹیشن کا کرایہ 2012 سے واجب الادا ہے، لیکن اس حوالے سے بھی کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔
دکانوں ایل جی-ون، ایل جی-ٹو، جی آر-ون، جی آر-ٹو کے مالکانہ حقوق محمد اقبال خیمانی کے پاس ہیں، مگر تجاوزات کے باعث وہ کمرشل استعمال سے محروم ہو چکی ہیں۔
بلڈر کی جانب سے پراپرٹی ٹیکس اور کمرشل ٹیکس کی بھی کوئی ادائیگی نہیں کی جارہی، جبکہ رابطے کی کوشش کے باوجود بلڈر عثمان ستار ٹرنک والا کا مؤقف نہیں لیا جا سکا۔
دکان مالکان نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد، تجاوزات کا خاتمہ، سب اسٹیشن کی منتقلی اور دکانوں کا قبضہ واپس دلانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ دکان دار اپنے روزگار کی بحالی ممکن بنا سکیں۔

