دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان مسلسل سرحد پار سے دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے، حالیہ جعفر ایکسپریس پر حملے میں ملوث دہشتگردوں کے بیرونی دنیا سے روابط سامنے آئے ہیں۔
مودی کا بھارت عالمی دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے، گرپتونت سنگھ پنوں
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی حکومت جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جعفر ایکسپریس پر دہشت گردی کے واقعے کے بعد فوری ریسکیو آپریشن مکمل کیا گیا، اور ماضی کی طرح اس بار بھی افغانستان کے ساتھ تمام تفصیلات شئیر کی جا رہی ہیں۔
افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان کی اولین ترجیح افغانستان کے ساتھ قریبی اور دوستانہ تعلقات کا فروغ ہے، اور اس سمت میں رابطوں کا تسلسل نہایت اہم ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے اور پاکستان کی اس حوالے سے پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ترجمان نے طورخم سرحد کے معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سرحد کھلا رکھنا چاہتا ہے، اس حوالے سے منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جب کہ افغانستان کی جانب سے پاکستانی علاقے میں غیر قانونی چوکی قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
امریکا میں پاکستانی شہریوں پر ممکنہ پابندیوں کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایسی تمام خبریں بے بنیاد اور قیاس آرائیاں ہیں، حکومت ان خبروں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اسپین میں گرفتار پاکستانی شہریوں کے بارے میں بتایا کہ ان میں سے 4 کو عدالتی احکامات کے بعد رہا کر دیا گیا ہے، جبکہ باقی قیدیوں سے ملاقات کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست کی گئی ہے، جو اب تک نہیں ملی۔
سفیر احسن وگن کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وہ نجی دورے پر امریکا گئے تھے، اور انہوں نے وزارت خارجہ کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا، انہیں سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں تھا، ابتدائی اور دوبارہ اسکریننگ کے بعد انہیں واپس جانے کی اجازت دی گئی، تاہم اس واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ڈپٹی وزیراعظم اسحٰق ڈار نے جدہ میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کی، جہاں انہوں نے فلسطینیوں کی دیگر ممالک منتقلی کے منصوبے کی مخالفت کی اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ اسحٰق ڈار نے ترکیہ، مصر، بنگلہ دیش، آزربائیجان، انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ اور او آئی سی سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طٰہٰ سے بھی ملاقاتیں کیں۔
آخر میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی اور اتحاد المسلمین سمیت دیگر تنظیموں پر پابندی کی شدید مذمت کرتا ہے، اور اب تک بھارت نے مقبوضہ وادی میں 16 جماعتوں پر پابندی عائد کی ہے۔
