سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ریلویز کا اجلاس، ریلوے پولیس اور بھرتیوں پر اہم فیصلے

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلویز کا اجلاس چیئرمین جام سیف اللہ خان کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں ریلوے پولیس، بھرتیوں اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اے وی ایل سی اور سی آئی اے کراچی کی کامیاب کارروائیاں، کار اور موٹر سائیکل چور گرفتار

ریلوے پولیس سے متعلق شکایات: کمیٹی نے ریلوے پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے اور گزشتہ دو ماہ کے دوران ہونے والی ٹرانسفر اور پوسٹنگ کا ریکارڈ طلب کر لیا۔
بھرتیوں میں مستقل بنیادوں پر تقرری کی سفارش: سینیٹر شہادت اعوان نے ریلوے سمیت دیگر اداروں میں مستقل بنیادوں پر بھرتی کی ضرورت پر زور دیا اور پولیس میں خالی اسامیوں پر فوری تقرری کا مطالبہ کیا۔
ریلوے میں اسامیوں کی صورتحال: سیکریٹری ریلویز نے آگاہ کیا کہ ادارے میں 95 ہزار اسامیاں ہیں، لیکن اس وقت صرف 55 ہزار سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں، جبکہ کابینہ کے فیصلے کے مطابق بھرتیاں کنٹریکٹ پر ہی کی جا رہی ہیں۔
عید الفطر کے لیے خصوصی ٹرینیں: کمیٹی نے عید کے موقع پر خصوصی ٹرینیں چلانے اور بڑے ریلوے اسٹیشنز پر واک تھرو گیٹس اور اسکینرز نصب کرنے کی سفارش کی۔
ریلوے ملازمین کی پنشن کے لیے یونیفارم پالیسی: کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دیگر اداروں کی طرح ریلوے ملازمین کے لیے بھی یکساں پنشن پالیسی مرتب کی جائے۔
ایم ایل ون منصوبہ: کمیٹی نے ایم ایل ون منصوبے میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2017 سے اب تک سات بار ایکسٹینشن ہو چکی ہے، اور ریلوے کی ری اسٹرکچرنگ صرف کاغذی دعوے معلوم ہوتے ہیں۔

One thought on “سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ریلویز کا اجلاس، ریلوے پولیس اور بھرتیوں پر اہم فیصلے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!