سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی۔
پنجاب فری سولر پینل اسکیم: ایک لاکھ سے زائد صارفین کو مفت سولر سسٹم ملیں گے
وکیل فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ 105 ملزمان کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے لیے انتخاب کیسے ہوا، بلکہ یہ ہے کہ آیا قانون اس کی اجازت دیتا ہے یا نہیں۔ جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ آیا آرمی ایکٹ کے سیکشن 94 کو چیلنج کیا گیا ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ اس سیکشن کے غیر محدود اختیارات کو بھی چیلنج کیا گیا ہے، کیونکہ کسی بھی افسر کو ایسے مکمل اختیارات حاصل نہیں ہونے چاہئیں جو وزیر اعظم کے پاس بھی نہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق صرف ان پر ہوگا جو اس کے تابع ہیں، اور انسداد دہشت گردی عدالت (ATC) کمانڈنگ افسر کی درخواست مسترد بھی کر سکتی تھی۔ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ملزمان کی حوالگی سے قبل کورٹ مارشل کا فیصلہ ہونا ضروری تھا، جو نہیں کیا گیا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے پوچھا کہ کیا حوالگی کی درخواست میں وجوہات بیان کی گئی تھیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ کوئی وجہ درج نہیں تھی۔ دوسری طرف، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ درخواست میں بتایا گیا کہ ملزمان نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔
فیصل صدیقی نے مزید کہا کہ اس ایکٹ کے تحت شکایت کا اندراج صرف وفاقی حکومت کر سکتی ہے، کوئی عام شہری نہیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔
