27 فروری 2019 کو پاک فضائیہ نے بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے دو بھارتی جنگی طیارے مار گرائے تھے، جن میں سے ایک کے پائلٹ، ابھینندن وردھمان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ تاہم، پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت اسے رہا کر دیا۔
شاہد خاقان عباسی کو قومی یکجہتی کانفرنس میں شرکت سے روکا گیا، اپوزیشن کا حکومت پر دباؤ ڈالنے کا الزام
پاک فوج کے ترجمان کے مطابق، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا اور مسلح افواج کے سربراہان نے پاکستان کے دفاع اور قومی سلامتی کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دیں گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس موقع پر پاک فضائیہ اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو اپنی افواج پر فخر ہے، جنہوں نے ہمیشہ ملکی دفاع اور قومی سلامتی کے لیے قربانیاں دی ہیں۔
یہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب 14 فروری 2019 کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ایک خودکش حملے میں 40 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے، جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر لگایا۔ 26 فروری کو بھارتی فضائیہ نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی، جس پر پاک فضائیہ نے بھرپور جواب دیتے ہوئے اگلے ہی دن دو بھارتی طیارے مار گرائے۔
پاکستان نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابھینندن کو رہا کیا، جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔ اس واقعے نے پاکستان کی دفاعی طاقت اور سفارتی بردباری کو ثابت کیا اور دنیا کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
