تشکر نیوز کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قومی یکجہتی کانفرنس میں شرکت کے لیے آنے والے عوام پاکستان پارٹی (اے پی پی) کے کنوینر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو پولیس نے ہوٹل میں داخل ہونے سے روک دیا۔
عید سے قبل مہنگائی میں اضافے کا خدشہ، چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ
شاہد خاقان عباسی نے اس اقدام پر شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراطلاعات نے ٹی وی پر بیان دیا تھا کہ کانفرنس کی اجازت دی گئی ہے اور کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی، مگر ہوٹل کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو خود نہیں معلوم کہ وہ کیا کر رہی ہے۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اسی طرح کے اقدامات کر رہے تھے، اس وقت موجودہ حکمرانوں کی کیا رائے تھی؟ آج جب وہ خود اقتدار میں ہیں تو ان کا طرز عمل تبدیل ہو گیا ہے۔
اس موقع پر عمر ایوب، محمود خان اچکزئی اور حامد رضا بھی ہوٹل کے باہر پہنچ گئے، جنہیں بھی اندر جانے نہیں دیا گیا۔
حکومتی ردعمل:
مشیر قانون بیرسٹر عقیل ملک نے اپوزیشن کی قومی یکجہتی کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ چند افراد کے اکٹھ کو قومی کانفرنس کا نام دینے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے اور کچھ لوگ محض سیاسی تماشا لگانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، "نہ نو من تیل تھا، نہ رادھا ناچی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ واقعی ایک بڑی قومی کانفرنس تھی تو اس کی ویڈیوز کہاں ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ چند افراد ایک آڈیٹوریم میں جمع ہوئے، جبکہ حکومت آئین اور جمہوریت کے مطابق کام کر رہی ہے۔
اپوزیشن کا حکومت پر دباؤ ڈالنے کا الزام:
واضح رہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے گزشتہ روز حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ہوٹل انتظامیہ پر کانفرنس کے دوسرے دن کی اجازت منسوخ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ کانفرنس ہر حال میں منعقد ہوگی۔
اپوزیشن کی دو روزہ کانفرنس 26 فروری 2025 کو اسلام آباد کے لیجنڈ ہوٹل میں شروع ہوئی، جس میں موجودہ سیاسی صورتحال، ملکی مسائل اور آئین کی بالادستی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شاہد خاقان عباسی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کانفرنس ملکی مسائل، قانون کی حکمرانی اور آئین کے تحفظ کے لیے منعقد کی گئی تھی، مگر حکومت اس سے بھی خوفزدہ ہو گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس بند کمرے میں ہو رہی تھی، نہ کہ سڑکوں پر، پھر بھی حکومت نے دباؤ ڈال کر اسے روکنے کی کوشش کی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے دن کی کانفرنس کے بعد ہوٹل انتظامیہ کو انٹیلی جنس اور حکومتی اہلکاروں نے دھمکایا کہ اگر دوسرے دن بھی کانفرنس جاری رکھی گئی تو ہوٹل کو کروڑوں کا جرمانہ ہوگا اور اسے بند کر دیا جائے گا۔
