الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق کمیشن بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے مکمل تیار ہے، تاہم صوبائی حکومت نے بلدیاتی ایکٹ 2024 میں پانچ مرتبہ ترامیم کا عذر پیش کیا ہے۔ اب تک پنجاب حکومت انتخابات کے انعقاد کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کر سکی، حالانکہ اسے اقتدار میں آئے ایک سال مکمل ہو چکا ہے اور بلدیاتی ایکٹ کی تیاری میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے۔
سندھ اسمبلی میں پری بجٹ اجلاس فوری بلایا جائے، علی خورشیدی کا مطالبہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 140 اے 2 اور الیکشنز ایکٹ کی دفعہ 219 کے تحت الیکشن کمیشن صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا پابند ہے۔ ملک کے دیگر تین صوبوں، وفاقی علاقوں اور کنٹونمنٹ بورڈز میں انتخابات مکمل ہو چکے ہیں، مگر پنجاب میں تا حال بلدیاتی انتخابات ممکن نہیں ہو سکے۔
الیکشن کمیشن نے انتخابات کے انعقاد کے لیے تین بار حلقہ بندیاں کیں اور دو مرتبہ الیکٹورل گروپس کی فہرست سازی کی، مگر باوجود شیڈول جاری کرنے کے، انتخابات کا انعقاد ممکن نہ ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق 2025 میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا قوی امکان ہے۔
سیکریٹری بلدیات پنجاب، شکیل احمد میاں نے بتایا کہ بلدیاتی حکومت ایکٹ کا حتمی مسودہ پنجاب اسمبلی میں بھجوا دیا گیا ہے اور ضروری قانون سازی کے بعد الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کا عمل شروع کرے گا۔ دوسری جانب، چیف الیکشن کمشنر سلطان سکندر راجا کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کرانا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے اور الیکشن کمیشن اپنا آئینی کردار ادا کر رہا ہے۔
