وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گھوٹکی کو ایک ابھرتا ہوا صنعتی مرکز قرار دیا اور کہا کہ کندھ کوٹ پاک-چین اقتصادی راہداری کے اہم راستے پر واقع ہے۔ یہ علاقے تیل و گیس کے ذخائر، توانائی کے منصوبوں اور کھاد کے کارخانوں کا مرکز ہیں۔ نئے پل کی تعمیر سے موجودہ 151 کلومیٹر فاصلہ کم ہو کر تقریباً 30 کلومیٹر رہ جائے گا، جس سے تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے 6 سال مکمل، آئی ایس پی آر کا نغمہ “دشمنasun” ریلیز
سیکیورٹی اقدامات
منصوبے کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں۔ پاکستان رینجرز کے 40 اہلکار، دو چوکیاں اور تین گشتی گاڑیاں سائٹ پر متعین ہیں، جبکہ سندھ پولیس کے 50 اہلکار بھی چار چوکیوں پر تعینات ہیں، جو ایک پولیس گاڑی اور ایک بکتر بند پرسنل کیریئر (اے پی سی) سے لیس ہیں۔
پولیس چوکیوں اور بیرکس کی تعمیر
وزیر اعلیٰ نے تین بیرکس کی تعمیر مکمل کرنے کی ہدایت کی، جن میں سے ایک تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ مزید 21 پولیس چوکیوں کی تعمیر کا منصوبہ ہے، جن میں سے چھ مکمل ہو چکی ہیں، جبکہ دریائے سندھ کی کارڑو پتن شاخ کے باعث دو چوکیوں کی تعمیر ممکن نہیں ہو سکی۔ وزیر اعلیٰ نے ان چوکیوں کے متبادل مقامات کے تعین کا حکم دیا۔
زمین کی فراہمی میں رکاوٹیں
وزیر اعلیٰ کو بریفنگ دی گئی کہ دریا کے کنارے کی زمین سرکاری ملکیت ہے، لیکن مقامی افراد نے اسے زرعی استعمال میں لے رکھا ہے اور تعمیراتی راہداری خالی کرنے سے انکار کر رہے ہیں، جس سے منصوبے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے محکمہ ریونیو اور پولیس کو زمین واگزار کرانے اور تعمیراتی کام بحال کرنے کی ہدایت دی۔
منصوبے کی تعمیراتی پیش رفت
سیکشن 1: گھوٹکی اپروچ روڈ (10.44 کلومیٹر)
63 فیصد کام مکمل
ایمبینکمنٹ: 95%، سب گریڈ: 94%، سب بیس: 93%، ایگریگیٹ بیس: 68% مکمل
تین پل اور 38 پائپ کلورٹس مکمل
سیکشن 2: دریائے سندھ پر 12.2 کلومیٹر پل
14 فیصد پیش رفت
377 پائلز، 330 شافٹ اور 89 ٹرانسومز مکمل
27 اکتوبر 2024 کو پائلنگ کا کام بحال
سیکشن 3: کندھ کوٹ اپروچ روڈ (8.44 کلومیٹر)
70 فیصد کام مکمل
ایمبینکمنٹ: 85%، سب گریڈ: 78%، سب بیس: 78%، ایگریگیٹ بیس: 77%، اسفالٹک بیس: 76% مکمل
دو پل اور پانچ پائپ کلورٹس مکمل
مقامی مزاحمت کے باعث 29+600 کلومیٹر پر کام رکا تھا، جو 19 فروری 2025 کو بحال ہوا
نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی منظوریوں میں تاخیر کے باعث مشکلات
