خانیوال کے رہائشی آصف جاوید کا کیس لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان کی عدالت میں زیرِ سماعت تھا۔ آصف جاوید کو ایک نجی کمپنی نے 2016 میں ملازمت سے برطرف کیا تھا، جس پر انہوں نے قانونی چارہ جوئی کی۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب عباسی شہید اسپتال میں لفٹ حادثے کا شکار، معجزانہ طور پر محفوظ
2019 میں لیبر کورٹ نے ان کی برطرفی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بحالی کا حکم دیا، مگر کمپنی نے یہ فیصلہ نیشنل انڈسٹریل ریلیشن کمیشن میں چیلنج کر دیا۔ کمیشن نے کمپنی کی اپیل مسترد کر دی، تاہم اس کے باوجود آصف جاوید کو نوکری پر بحال نہیں کیا گیا۔
متاثرہ شخص کا کیس 2020 سے لاہور ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت تھا، جب دسمبر 2020 میں نجی کمپنی نے معاملہ عدالت میں لے جانے کا فیصلہ کیا۔ آج لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت کے بعد اگلی تاریخ 8 اپریل مقرر کی۔
مگر انصاف کے طویل انتظار اور بار بار کی عدالتی کارروائیوں سے دلبرداشتہ ہوکر آصف جاوید نے عدالت کے احاطے میں خود کو آگ لگا لی، جس پر وہاں موجود افراد نے فوری طور پر مداخلت کی۔ ان کے اس انتہائی اقدام کے بعد ایک بار پھر ملک کے عدالتی نظام اور سست انصاف کی فراہمی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال جون میں وفاقی وزیر قانون نے عدالتی اصلاحات کا اعلان کیا تھا، اور کہا تھا کہ حکومت اور پارلیمان مل کر فرسودہ نظام انصاف میں بہتری لانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ تاہم، اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالتی اصلاحات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
