کراچی: وزیر تعلیم سندھ کی ذاتی دلچسپی اور ہدایت پر محکمہ اسکول ایجوکیشن میں ترقیاتی کاموں کی رفتار میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ موجودہ مالی سال میں 599 ترقیاتی منصوبوں کے لیے ابتدائی طور پر 20 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، جن میں نظرثانی کے بعد بجٹ کو 19 ارب 99 کروڑ روپے کر دیا گیا، جس میں سے اب تک 11 ارب 69 کروڑ روپے جاری کر دیے گئے ہیں۔
سندھ حکومت اور ٹورنٹو میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے درمیان تعلیمی شراکت داری پر اتفاق
سیکریٹری اسکول ایجوکیشن کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سات ماہ میں مجموعی طور پر 7 ارب 99 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ آنے والے پانچ ماہ میں مزید 12 ارب ایک کروڑ روپے کے اخراجات متوقع ہیں۔
ترقیاتی منصوبوں کی تقسیم اور فنڈز کی تقسیم پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ بتایا گیا کہ 110 منصوبوں کے لیے مختص 50 کروڑ روپے کی مکمل رقم ایک ہی قسط میں جاری کی جائے گی۔ 27 منصوبوں کے لیے رقم دو قسطوں میں اور 5 منصوبوں کے لیے چار قسطوں میں جاری کی جائے گی۔ اسی طرح، 451 منصوبوں پر 10 کروڑ روپے کا بجٹ بھی چار قسطوں میں جاری کیا جائے گا، جبکہ ایک منصوبے کی رقم انتظامی منظوری کے بعد چار قسطوں میں فراہم کی جائے گی۔
سیکریٹری تعلیم نے تاکید کی کہ ترقیاتی کاموں کی رفتار میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ تعلیمی شعبے میں معیار اور سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے۔

