کراچی: سہراب گوٹھ ٹاؤن انتظامیہ اور پولیس کی مبینہ بدعنوانی اور بھتہ خوری کے خلاف آلاصف اسکوائر چورنگی، مین سپر ہائی وے پر شہریوں نے بھرپور احتجاج کیا۔ مظاہرین نے ایم نائن موٹر وے کے دونوں اطراف ٹریفک کے لیے بند کر دیا، جس کے باعث کراچی سے حیدرآباد اور حیدرآباد سے کراچی آنے جانے والے راستے مکمل طور پر معطل ہو گئے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کی کے الیکٹرک پر کڑی تنقید، عدالت سے کارروائی کی درخواست
مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر نذرآتش کر کے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور حکومت سندھ اور پولیس انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
مظاہرین کے اہم بیانات:
فرحان انصاری: "ہمارا احتجاج بدعنوان اور کرپٹ سسٹم کے خلاف ہے۔ سندھ حکومت بتائے کہ اداروں میں تعیناتیاں کون کرتا ہے؟”
فرحان انصاری: "سہراب گوٹھ ٹاؤن چیئرمین اور پولیس کی زیادتیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ٹاؤن انتظامیہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے کرپشن میں مصروف ہے۔”
"سڑک تب تک بند رہے گی جب تک سندھ پولیس مذاکرات نہیں کرتی۔”
غیر قانونی سرگرمیوں کی نشاندہی:
پنجاب اڈہ اور کوئٹہ اڈہ غیر قانونی اسمگلنگ کے بڑے مراکز بن چکے ہیں۔
سہراب گوٹھ اور سچل پولیس اسمگلنگ کی روک تھام میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔
اسمگلنگ کے باعث کاروباری طبقہ پریشان ہے، اور کاروبار تباہی کے دہانے پر ہیں۔
معیشت پر اثرات:
مظاہرین کا کہنا تھا کہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام یقینی بنانے سے نہ صرف کاروباری حالات بہتر ہوں گے بلکہ ملکی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔ بدقسمتی سے، پولیس اور ٹاؤن انتظامیہ کی غیر ذمہ دارانہ رویہ ملکی معیشت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
ٹاؤن انتظامیہ پر الزامات:
ٹریڈ لائسنس کے نام پر دوکانداروں کو پریشان کیا جا رہا ہے۔
علاقے کا پانی صنعتوں کو فروخت کیا جا رہا ہے۔
ٹاؤن چیئرمین لالہ عبدالرحیم سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور علاقے کی خوشحالی کے لیے کام کریں۔

