چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کے تاجروں سے خطاب کے بعد ایم کیو ایم پاکستان نے پیپلزپارٹی کی پندرہ سالہ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
راولپنڈی: میجر حمزہ اسرار کی نماز جنازہ ادا، قومی قیادت کی شرکت
ایم کیو ایم کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی:
بہادرآباد مرکز میں پریس کانفرنس کے دوران خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ میں جمہوریت کے نام پر ایک جماعت نے بیس سالہ دورِ حکومت میں شہری علاقوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی ہی صوبے کو چلانے کے لیے مالی وسائل فراہم کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود شہری علاقوں کے عوام کو تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع سے محروم رکھا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ سرکاری سطح پر بھتہ خوری جاری ہے اور پیپلزپارٹی نے کوٹہ سسٹم کے ذریعے کراچی اور شہری علاقوں کے ساتھ نسل پرستانہ رویہ اپنایا۔
مصطفیٰ کمال کا مؤقف:
ایم کیو ایم کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کو دھمکانا قابلِ مذمت ہے اور ایم کیو ایم ہمیشہ تاجروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے آرمی چیف کی جانب سے نئے صوبوں کی تائید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وسائل اور اختیارات نہیں دیے گئے تو نئے صوبے ناگزیر ہیں۔
ڈاکٹر فاروق ستار کا بیان:
ایم کیو ایم کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے پیپلزپارٹی پر زمینوں پر قبضے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کا معیشت میں کردار پاکستان کی بقا کے لیے ناگزیر ہے، لیکن صنعت کاروں اور بلڈرز کی زمینوں پر تیزی سے قبضے کیے جا رہے ہیں۔
خلاصہ:
ایم کیو ایم پاکستان نے پیپلزپارٹی کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کراچی کے عوام کے حقوق کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے اور آئینی ترمیم کے ذریعے اختیارات کی منتقلی کا اعادہ کیا ہے۔
