ڈپٹی کمشنر سینٹرل طحہ سلیم کی زیر صدارت پولیو مہم کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر سینٹرل پولیو ڈاکٹر ایاز، ڈاکٹرز اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر سینٹرل طحہ سلیم نے پولیو کے مسئلے کو عالمی اور قومی سطح پر ایک ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھر میں پولیو کو مہلک بیماری کے طور پر لیا جا رہا ہے اور اس کے خاتمے کے لیے مہم کو تیز کیا جا رہا ہے۔
ایف آئی اے کی کارروائی: گداگری اور جعل سازی میں ملوث خاتون اور ملزم گرفتار
طحہ سلیم نے بتایا کہ سروے کے مطابق 70 فیصد لوگ پولیو کی ویکسین پلانے سے انکاری ہیں، جس کے باعث بچوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے والدین کو پولیو ویکسین کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس بیماری سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر نے ۳ فروری سے ۹ فروری تک پاکستان بھر میں پولیو مہم کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کیا اور کہا کہ مہم کی تیاریوں کا جائزہ لیا جائے گا اور کسی بھی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس دوران گھر گھر مہم بھرپور طریقے سے چلائی جائے گی اور روزانہ کی بنیاد پر ہر یونین کونسل کو اپنی رپورٹ ڈپٹی کمشنر آفس میں جمع کرانی ہوگی۔
