کیسپرسکی کی تحقیق: آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے سائبر حملوں میں اضافہ، کاروباری ادارے پریشان

اسلام آباد: کیسپرسکی کی حالیہ تحقیق کے مطابق، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال نے سائبر حملوں کی شدت میں اضافہ کیا ہے، جس سے کاروباری ادارے شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سروے میں شامل 76 فیصد کمپنیوں نے پچھلے سال کے دوران سائبر واقعات میں اضافے کی اطلاع دی، جن میں سے 46 فیصد نے اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ حملے ممکنہ طور پر AI کی مدد سے کیے گئے تھے۔

کراچی: مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ میں مافیاز کی اجارہ داری کا انکشاف، صارفین کا استحصال جاری

کیسپرسکی کی تحقیق "سائبر دفاع اور اے آئی” نے چھوٹے کاروباروں اور بڑی کمپنیوں میں کام کرنے والے انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکیورٹی ماہرین کی آراء اکٹھی کیں، جنہوں نے AI کے استعمال کے ذریعے سائبر حملوں سے اپنے اداروں کی حفاظت میں درپیش نئے چیلنجز پر روشنی ڈالی۔

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ 72 فیصد جواب دہندگان کے لیے AI کے ذریعے سائبر کریمنلز کا فائدہ اٹھانا ایک سنگین تشویش ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے، 90 فیصد کاروباری ادارے اپنے تحفظ کے لیے داخلی مہارت اور بیرونی سائبر سیکیورٹی کی مہارت کو بڑھانے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔

تاہم، کئی کمپنیوں کے پاس جدید ترین سائبر سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے درکار وسائل کی کمی ہے۔ 57 فیصد کمپنیوں نے رپورٹ کیا کہ ان کے پاس بیرونی سائبر سیکیورٹی کی مہارت نہیں ہے، جبکہ 54 فیصد نے کہا کہ ان کی آئی ٹی ٹیمیں کافی بڑی نہیں ہیں۔

کپس سکی کے ماہر اولیگ گوروبٹس نے کہا کہ سائبر سیکیورٹی کا منظرنامہ مسلسل تبدیل ہو رہا ہے، اور کاروباری ادارے اب اس بات پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا ان کے موجودہ حل ان نئے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ وہ مشورہ دیتے ہیں کہ کمپنیوں کو مضبوط اور کثیر پرتوں والے سیکیورٹی حل اپنانا چاہیے تاکہ اپنے آئی ٹی انفراسٹرکچر کو محفوظ بنایا جا سکے۔

55 / 100 SEO Score

One thought on “کیسپرسکی کی تحقیق: آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے سائبر حملوں میں اضافہ، کاروباری ادارے پریشان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!