کراچی : مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی انکوائری رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مختلف شعبوں میں مافیاز کی اجارہ داری کے باعث صارفین کا استحصال جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سیمنٹ سمیت دیگر شعبوں میں تجارتی گٹھ جوڑ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر منافع کمایا گیا ہے اور قیمتوں کا تعین وٹس ایپ، ایس ایم ایس اور سوشل میڈیا کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔
چوہدری غلام مصطفیٰ انصاری نے مکرم خلیل کو پریزیڈنٹ ڈسٹرکٹ کراچی نیشنل پیس کونسل نامزد کر دیا
دستاویز کے مطابق، 2020 میں انکوائری کے دوران سیمنٹ کی بوری کی قیمت 450 روپے تھی، جبکہ گٹھ جوڑ کی وجہ سے اب اس کی قیمت 1450 روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ حکومتوں کی نااہلی اور مسابقتی کمیشن کے ٹریبونل کی غیر فعال ہونے کے باعث گزشتہ 10 سالوں میں یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔
مسابقتی کمیشن نے مختلف شعبوں میں 22 انکوائریاں مکمل کر لی ہیں، تاہم 567 پرانے مقدمات ابھی تک زیر التوا ہیں، جن میں جرمانوں کا حجم 74 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مسابقتی کمیشن جرمانوں کی عدم وصولی کے باعث 5 بڑے سیکٹرز کے سامنے بے بس ہو چکا ہے۔ ان میں شوگر، ٹیلی کام، اور کھاد سیکٹر شامل ہیں، جن پر 63.7 ارب روپے کے جرمانے 2012 سے زیر التوا ہیں۔ ان پانچ بڑے شعبوں کے ذمہ 74 ارب روپے کے مجموعی جرمانوں کا 95 فیصد ہے۔
