کراچی : کراچی کے مئیر مرتضی وہاب نے بزنس کمیونٹی کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جو اچھا کام کرنا چاہتا ہے اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق، کراچی کی بزنس کمیونٹی نے کاٹی (کراچی آٹوموٹو اینڈ ٹریڈ اینڈ انڈسٹری) میں ایک ملاقات کے دوران مئیر کراچی کے خلاف شکایات کے انبار لگا دئیے۔
کیسپرسکی کی تحقیق: آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے سائبر حملوں میں اضافہ، کاروباری ادارے پریشان
کاٹی کے سابق صدر مسعود نقی نے کہا کہ مئیر کراچی کی شعلہ بیانی کے بعد انتظامیہ نے فیکٹری مالکان کو ہراساں کرنے کے لئے نوٹسز کا انبار لگا دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مئیر کراچی کا کاروباری طبقے کے خلاف بیان انتہائی غیر مناسب تھا۔
مئیر کراچی نے اپنے خطاب میں کہا کہ باوجود اس کے کہ وہ دن رات کام کرتے ہیں، ان کے خلاف بڑی سطح پر شکایتیں کی جاتی ہیں کہ وہ دو دو ماہ تک دفاتر نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ افراد نے جان بوجھ کر یہ شرارت کی، جس کا انہیں افسوس ہے۔
مئیر نے یہ بھی کہا کہ کراچی کی بزنس کمیونٹی وفاقی حکومت اور ایف بی آر سے ڈرتی ہے، اس لئے وہ شکایت کرنے سے گریز کرتی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لئے اربوں روپے ٹیکس دینے والے شہر کے لئے مناسب فنڈز جاری کرے۔
اختتام میں، مئیر کراچی نے بزنس کمیونٹی کی جانب سے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے حصول کے لئے کردار ادا کرنے کی درخواست پر بھی بات کی۔
