تشکر نیوز: خیبرپختونخوا اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے وفاقی حکومت کو دھمکی دی کہ اگر آئی جی اسلام آباد کو ہٹا دیا نہ گیا تو وہ اسلام آباد پر دھاوا بول دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پختونخوا کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی احتجاج کے دوران فسطائیت کا مظاہرہ کیا گیا۔
اسلام آباد: اسٹریٹجک ویژن انسٹی ٹیوٹ میں دو روزہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کانفرنس کا انعقاد
علی امین نے بتایا کہ جلسے کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے وہ احتجاج پر مجبور ہوئے، جس کے نتیجے میں ان کے جلوس پر شیلنگ کی گئی، جو تاریخ میں ایک نایاب واقعہ ہے۔ انہوں نے پولیس اور رینجرز کو پیچھے دھکیل کر ڈی چوک تک پہنچنے کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ فوج ان کی ہے اور ان کے ساتھ لڑائی کا کوئی ارادہ نہیں، اور گرفتاری سے بھی انہیں کوئی خوف نہیں ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ کے پی ہاؤس میں پولیس نے دھاوا بول کر تشدد کیا، اور یہ جگہ جیسے ان کی ذاتی ملکیت ہو۔
علی امین نے مزید کہا کہ وہ سرکاری گاڑی میں کے پی ہاؤس سے نکلے اور بعد میں پیدل روانہ ہوئے۔ انہوں نے اپنی سفر کی تفصیلات بھی بتائیں، کہ وہ کیسے ایم ٹیگ کے ذریعے موٹروے پر پہنچے، اور بعد میں دیگر علاقوں سے ہوتے ہوئے پشاور پہنچے۔
انہوں نے دوبارہ اسلام آباد پر چڑھائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسمبلی کے فلور سے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ تیار رہیں، کیونکہ وہ ایک بار پھر اسلام آباد آرہے ہیں اگر آئی جی کو نہیں ہٹایا گیا۔
