تشکر نیوز: کراچی پریس کلب پر پاکستان سنی تحریک نے احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرے میں مرکزی رہنما فہیم الدین شیخ، محمد مبین قادری، اور علماء بورڈ کے رکن علامہ محمود قادری نے خطاب کیا۔ کارکنان نے "غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے”، "تاجدار ختم نبوت ﷺ زندہ باد”، اور "لبیک لبیک یارسول اللہ لبیک” کے نعروں سے فضا کو گونجایا۔
28ویں چیف آف دی نیول اسٹاف اوپن گالف چیمپئن شپ کی اختتامی تقریب
احتجاجی مظاہرے میں مرکزی رابطہ کمیٹی کے رکن غلام مرتضیٰ قادری، کراچی کے امیر محمد فرقان قادری، نائب امیر محمد فرحان قادری، اور کراچی رابطہ کمیٹی کے ارکان بھی موجود تھے۔
فہیم الدین شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شریعت اور آئین پر کسی کو شب خون مارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے عدلیہ کے احترام کا اظہار کیا مگر آئین سے انحراف پر مبنی فیصلوں کو تسلیم نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے قادیانیوں کی سرگرمیوں پر آئین کے تحت مکمل پابندیاں عائد کرنے اور مبارک ثانی کیس کے فیصلے کو آئین سے انحراف اور قادیانیوں کو توہین کرنے کا سرٹیفیکٹ قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مبارک ثانی کیس میں آئین سے انحراف کرنے والے ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرے اور انہیں فوری طور پر آئینی عہدوں سے ہٹائے۔
محمد مبین قادری نے کہا کہ علماء نے واضح کیا ہے کہ مبارک ثانی کیس کا فیصلہ شریعت اور آئین سے متصادم ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ وہ اس فیصلے کو دوبارہ کھولیں تاکہ انصاف کی بالادستی قائم کی جا سکے۔ مبین قادری نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارے اسلاف نے قادیانیوں کو قرآن و سنت اور علماء کے اجماع سے غیر مسلم قرار دیا تھا، اور قرآن پاک کی تحریف کرنے والے کس طرح مسلمان ہو سکتے ہیں۔
علامہ محمود قادری نے کہا کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور اسلام دشمن قوتیں اس قلعے کو کمزور کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے قادیانیوں کو ایک بڑا فتنے قرار دیا جو ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مظاہرے میں شرکاء نے "عقیدہ ختم نبوت کانفرنس” میں شرکت کو یقینی بنانے کی اپیل کی اور کہا کہ یہ کانفرنس باطل قوتوں کے خلاف اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔
