تشکر نیوز: محکمہ تعلیم سندھ میں چھ ہزارتین سو بیالیس "گھوسٹ” اساتذہ کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، جنہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی تنخواہیں اور مراعات وصول کر رکھی ہیں۔ ڈی جی مانیٹرنگ نے سیکریٹری تعلیم سندھ کو اس سلسلے میں سمری ارسال کر دی ہے۔
جعلی سفری دستاویزات پر سفر کرنے والے ملزمان کے خلاف ایف آئی اے کی کارروائی
ڈی جی مانیٹرنگ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یہ تمام اساتذہ گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کر رہے ہیں، اور کچھ ایسے ملازمین بھی ہیں جنہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی غیر قانونی طور پر تنخواہیں اور مراعات جاری رکھی ہوئی ہیں۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ان تمام اساتذہ کی آئی ڈیز اور تنخواہیں فوری طور پر بند کر دی جائیں۔
محکمہ تعلیم کے ترجمان نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں نہ تو کوئی "گھوسٹ” ملازم ہے اور نہ ہی کوئی اسکول گھوسٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "گھوسٹ” اساتذہ کی اصطلاح کے استعمال سے محکمہ تعلیم کا غلط تاثر پیش ہو رہا ہے۔ ترجمان نے وضاحت کی کہ نوکری پر غیر حاضر رہنے والے یا عادی غیر حاضری کے حامل اساتذہ یا ملازمین کی نشاندہی خود محکمہ تعلیم نے کی ہے اور ایسے ملازمین کے خلاف کارروائی وقتاً فوقتاً کی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بغیر اطلاع کے غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے خلاف محکمہ تعلیم کی جانب سے مناسب کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے، اور اس ضمن میں کوئی بھی شکایت فوری طور پر نمٹائی جاتی ہے۔
