والدہ نے کسی بھی ملک میں پناہ لینے کی درخواست نہیں کی، سجیب واجد

بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم حسینہ واجد کے بیٹے سجیب واجد نے کہا ہے کہ ان کی والدہ نے کسی بھی ملک میں پناہ لینے کی درخواست نہیں کی۔

بھارتی خبر رساں ادارے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملک سے فرار کے بعد بھارت پہنچنے والی حسینہ واجد نے برطانیہ کے ساتھ دیگر ممالک میں پناہ کی درخواست کی تھی۔

دوست ممالک نے پاکستان سے قرضوں کی ادائیگی کی مدت ایک سال بڑھانے کا وعدہ کیا ہے، بلومبرگ

جب سجیب واجد سے پوچھا گیا کہ ان کی والدہ پناہ کی درخواست پر برطانیہ کی خاموشی اور امریکا کی جانب سے ویزا مسترد کرنے کی وجہ کیا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کی والدہ نے دنیا کے کسی بھی ملک میں پناہ کی درخواست نہیں دی۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں پناہ کی درخواست کی رپورٹس درست نہیں، انہوں نے کسی بھی ملک سے پناہ کی درخواست نہیں کی لہٰذا امریکا یا برطانیہ کی جانب سے جواب نہ دینے کی بات غلط ہے۔

جب ان سے امریکا کی جانب سے ویزا مسترد کرنے کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے اس بات کی بھی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ اس طرح کی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔

سجیب واجد گزشتہ روز اس وقت خبروں کی زینت بن گئے تھے جب انہوں نے کہا تھا کہ ان کی والدہ کی بنگلہ دیش میں سیاست ختم ہو گئی ہے اور وہ ریٹائر ہونے کا سوچ رہی ہیں لہٰذا یہ ان کا بطور وزیر اعظم آخری دور تھا۔

اس سے قبل یہ رپورٹس آئی تھیں کہ امریکا نے شیخ حسینہ واجد کا ویزا منسوخ کردیا ہے جبکہ برطانیہ نے ان کی پناہ کی درخواست مسترد کردی ہے۔

شیخ حسینہ واجد کے بھارت پہنچنے کے بعد ان کی برطانیہ روانگی متوقع تھی لیکن برطانیہ کی جانب سے کوئی جواب موصول نہ ہونے پر وہ ابھی تک بھارت میں ہی مقیم ہیں لہٰذا ممکنہ طور پر وہ اب پناہ کے لیے فن لینڈ کا رخ کریں گی۔

One thought on “والدہ نے کسی بھی ملک میں پناہ لینے کی درخواست نہیں کی، سجیب واجد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!