پنجاب اسمبلی میں سوشل سیکیورٹی آرڈیننس ترمیمی بل منظور، کم از کم اجرت 40 ہزار روپے ریگولیٹ کرنے کی راہ ہموار

حکومت پنجاب نے ملازمین کی کم از کم اجرت 40 ہزار روپے کے مطابق سوشل سیکیورٹی نظام کو ریگولیٹ کرنے کے لیے اہم قانون سازی کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی سے ملازمین سوشل سیکیورٹی آرڈیننس 1965 میں ترمیم کا بل کثرتِ رائے سے منظور کروا لیا۔
میٹرک امتحانات میں بے ضابطگیوں پر چیئرمین میٹرک بورڈ غلام حسین سوہو مستعفی

بل کے متن کے مطابق موجودہ دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں، جن کے تحت صوبائی ملازمین سوشل سکیورٹی ایکٹ 2026 کے ذریعے 1965 کے قانون میں متعدد ترامیم کی جائیں گی۔

دستاویزات کے مطابق 1965 کے ایکٹ میں تنخواہ کی زیادہ سے زیادہ حد 22 ہزار روپے برقرار تھی، جبکہ حکومت کی جانب سے کم از کم اجرت 40 ہزار روپے مقرر کیے جانے کے بعد موجودہ قانون میں تضاد پیدا ہوگیا تھا، جس سے قانونی اور انتظامی پیچیدگیاں سامنے آ رہی تھیں۔

بل میں کہا گیا ہے کہ جولائی 2022 سے ادا کی جانے والی سوشل سیکیورٹی شراکتوں کو قانونی تحفظ دینا ضروری ہوچکا ہے، کیونکہ موجودہ قانون میں ترمیم نہ ہونے کے باعث محکمانہ کارروائیوں اور مالی معاملات میں مشکلات پیش آ رہی تھیں۔

حکومت پنجاب کے مطابق ان اصلاحات کا مقصد مزدوروں اور ملازمین کو بہتر سماجی تحفظ فراہم کرنا اور ادارہ جاتی نظام کو موجودہ معاشی حالات سے ہم آہنگ بنانا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق ترمیمی بل کی منظوری کے بعد سوشل سیکیورٹی نظام میں شفافیت اور قانونی وضاحت آئے گی، جبکہ کم از کم اجرت کے نئے ڈھانچے کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

ترمیمی بل اب حتمی منظوری کے لیے گورنر پنجاب کو ارسال کیا جائے گا، جس کے بعد اسے باقاعدہ قانون کی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔

One thought on “پنجاب اسمبلی میں سوشل سیکیورٹی آرڈیننس ترمیمی بل منظور، کم از کم اجرت 40 ہزار روپے ریگولیٹ کرنے کی راہ ہموار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!