حکومت نے ملک میں جاری گیس بحران پر قابو پانے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے بڑے ایکشن پلان کی تیاری شروع کر دی ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے ادارہ جاتی ہم آہنگی بڑھانے اور گیس فراہمی کے نظام کو مؤثر بنانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس کی اپریل 2026 میں بڑی کامیابیاں، 56 مقابلے، درجنوں گرفتاریاں اور بھاری مقدار میں اسلحہ و منشیات برآمد
ذرائع کے مطابق حکومت نے گیس کی فراہمی، قیمتوں اور طلب کے بہتر انتظام کے لیے ایک جامع حکومتی فریم ورک تیار کرلیا ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل (این سی ایم سی) کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جس کے تحت توانائی سے متعلق تمام اقدامات کو ایک مربوط نظام کے تحت چلایا جائے گا۔
حکومتی فیصلے کے مطابق پاور ٹاسک فورس کے اقدامات کو بھی اسی کونسل کے دائرہ اختیار میں لایا جائے گا تاکہ توانائی کے شعبے میں بہتر رابطہ کاری اور پالیسی سازی ممکن بنائی جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سیکرٹری پیٹرولیم سے تفصیلی بریفنگ طلب کر لی ہے اور گیس اصلاحات سے متعلق پیش رفت رپورٹ 8 مئی تک جمع کرانے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم کو ہر ماہ گیس اصلاحات پر مبنی رپورٹ پیش کی جائے گی۔
حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ گیس کی فراہمی میں بہتری آنے تک نئے آر ایل این جی کنکشنز عارضی طور پر معطل رہیں گے۔ اضافی گیس کی دستیابی کے لیے تلاش و پیداوار کمپنیوں سے ہفتہ وار رپورٹس طلب کی گئی ہیں، جن میں ماڑی، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، مول اور یو ای پی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے مقامی سطح پر گیس کی پیداوار بڑھانے اور طلب و رسد میں توازن قائم کرنے کے لیے نئی حکمت عملی مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ مہنگی درآمدی گیس کے بجائے سستی مقامی گیس کے استعمال کو فروغ دینے کی پالیسی بھی زیر غور ہے۔
وزیراعظم نے گھریلو گیس طلب کی منصوبہ بندی میں بڑی تبدیلیوں، گیس لوڈشیڈنگ کے اوقات کا ازسرنو جائزہ لینے اور نقصانات میں کمی کے لیے فوری اقدامات کی بھی ہدایت کی ہے۔
حکومت نے گیس کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اضافی آمدن حاصل کرنے کے لیے نئی مالی حکمت عملی بھی تیار کی جا رہی ہے۔ اوگرا اور متعلقہ ٹاسک فورس کو ان اقدامات کے مالی اثرات کا تخمینہ لگانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
