ضلع وسطی کے علاقوں میں پانی کے مصنوعی بحران کا پردہ فاش ہو گیا ہے۔ واٹر کارپوریشن کے سینئر افسر مرزا اخلاق بیگ نے ناظم آباد میں پانی چوری کے ایک بڑے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا ہے۔ سائٹ اور پاک کالونی میں پانی چوری کے نظام کے ساتھ ساتھ ناظم آباد میں بھی بڑے ٹینکوں کے ذریعے شہریوں کا پانی مبینہ طور پر چوری کیا جا رہا تھا اور اسے منرل واٹر کمپنیوں اور ایک بڑی بیوریج کمپنی کو فراہم کیا جا رہا تھا۔
گوادر میں بلوچ راجی موچی کے نام پر حملہ، سپاہی شبیر بلوچ شہید
واٹر کارپوریشن کے ترجمان نے بتایا کہ فراہم کردہ پانی کو سب سوائل واٹر قرار دیا جا رہا ہے، حالانکہ سب سوائل واٹر کے تمام لائسنس واٹر کارپوریشن نے گزشتہ 6 ماہ قبل منسوخ کر دیے تھے۔
مرزا اخلاق بیگ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ناظم آباد چمن سینما کے قریب ایک بڑے انڈر گراﺅنڈ ٹینک پر چھاپہ مارا، جہاں 6 انچ کے پانچ بڑے پائپوں کے ذریعے پانی کی سپلائی کی ویڈیو بھی وائرل کر دی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ناظم آباد کے مختلف علاقوں میں ڈیڑھ ماہ سے پانی کی فراہمی متاثر ہے، جس کی وجہ سے علاقے سے ٹیکس ریکوری کو نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ واٹر مافیا اس پانی کو فروخت کر رہا ہے۔
اخلاق بیگ نے کہا کہ اگر یہ پانی سب سوائل واٹر ہے تو اس کا لائسنس بھی منسوخ ہے اور اگر یہ واٹر کارپوریشن کا پانی ہے تو پورے علاقے میں پانی نہیں آ رہا لیکن غیر قانونی ہائیڈرنٹ میں بھرپور پریشر کے ساتھ پانی دستیاب ہے۔ واٹر کارپوریشن کے ذرائع کے مطابق ضلع وسطی کے پانی کو منظم طریقے سے فروخت کیا جا رہا ہے اور شہر میں پانی کے بحران کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے۔ اس حوالے سے اینٹی تھیفٹ سیل کی کارکردگی اور خاموشی بھی سامنے آئی ہے۔ واٹر کارپوریشن کے سینئر افسران نے بتایا کہ ایم ڈی اور سی ای او واٹر کارپوریشن، انجینئر صلاح الدین، ادارے میں اصلاحات لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جبکہ بدعنوان افسران اصلاحاتی نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
