اتحادی حکومت آج آئندہ مالی سال 24-2023 کے لیے بجٹ پیش کرے گی جب کہ وہ عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) کے ساتھ نئے قرض پروگرام کے سلسلے میں مذاکرات کے دوران اپنا کیس مضبوط کرنے کی کوشش کرے گی۔
ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب شام 4 بجے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے جس میں ملک کے مجوزہ اخراجات اور ذرائع آمدن کے منصوبوں کے خدوخال واضح کریں گے۔
نئی آئی ایم ایف ڈیل کو مد نظر رکھ کر اتحادی حکومت آج آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرے گی
حکومت کے عبوری منصوبے کے مطابق بجٹ پر عام بحث 20 جون کو شروع ہوگی جو 24 جون تک جاری رہے گی، ارکان 26 اور 27 جون کو کٹ موشن پر بحث اور ووٹنگ میں حصہ لیں گے جب کہ 28 جون کو بجٹ کو منظور کیا جائے گا۔
ایک دن پہلے حکومت نے پاکستان اکنامک سروے 2023-24 جاری کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت مشکل حالات کی وجہ سے معیشت گزشتہ بجٹ میں مقرر کردہ اپنے زیادہ تر اہداف کو پورا کرنے میں ناکام رہی، تاہم زراعت کے شعبے نے بے مثال ترقی حاصل کی۔
ملکی برآمدات کا ہدف 32 ارب 34 کروڑ 10 لاکھ ڈالرز مقرر
پیر کو وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، چاروں وزرائے اعلیٰ، دفاع، خزانہ اور منصوبہ بندی کے وزرا پر مشتمل قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 47 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 37 کھرب 92 ارب روپے کے وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کی منظوری دی۔
گزشتہ ہفتے یہ رپورٹ کیا گیا تھا کہ وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف بجٹ سے قبل اہم بات چیت میں مصروف ہیں جب کہ عالمی قرض دہندہ نے کچھ سخت شرائط حکومت کے سامنے رکھ دی ہیں۔
آئی ایم ایف کے اہم مطالبات میں ٹیکس ریونیو ہدف میں اضافہ، سبسڈیز کا خاتمہ، زرعی شعبے پر ٹیکس، بجلی، گیس اور تیل کے شعبوں پر لیوی اور ٹیکسوں میں اضافہ، خسارے کا شکار سرکاری اداروں اور یونٹس کی نجکاری اور گورننس کو بہتر بنانا شامل ہیں۔
