کراچی: آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے وفاقی ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان کے 17 رکنی وفد سے ملاقات کی، جس کی سربراہی ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر ثاقب فیاض کر رہے تھے۔ ملاقات میں سندھ کے مختلف شہروں کے ایوان ہائے صنعت و تجارت اور تاجرتنظیموں کے صدور و اراکین بھی شریک ہوئے۔
کراچی کسٹمز کی کارروائی، مسافر سے بڑی مقدار میں سونا اور غیر ملکی کرنسی برآمد
ملاقات کے دوران صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے سیکیورٹی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے صوبے میں کاروباری ماحول میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ماضی کے مقابلے میں اب کاروبار بہتر اور سازگار ماحول میں ہو رہا ہے۔
وفد نے بتایا کہ کندھکوٹ، شکارپور، لاڑکانہ، جیکب آباد اور دیگر کچے علاقوں کے راستے مال بردار گاڑیوں کے لیے دن رات محفوظ ہو گئے ہیں۔ اجلاس میں خواتین تاجروں کے تحفظ اور کاروباری مسائل کے حل کے انتظامات کو بھی زیر بحث لایا گیا۔ صدر وومن چیمبر آف کامرس ملیر نے کہا کہ خواتین تاجروں کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔
صوبے میں امن و امان قائم کرنے کے لیے سب اسٹیک ہولڈرز کو کریڈٹ دیا گیا۔ آئی جی سندھ نے بتایا کہ بننے کے بعد پہلی ترجیح کچے کے علاقوں سے نو گو ایریاز کا خاتمہ تھا اور جنوری سے اب تک تقریباً 280 ڈاکو سرنڈر کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس ہائی وے پیٹرول کو مضبوط بنا کر شاہراہوں کو مزید محفوظ بنائے گی، جبکہ کراچی میں تاجروں کی مدد سے 40 ہزار سے زائد سیکیورٹی کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں۔
ملاقات میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ خواتین تاجر و صنعت کاروں کے مسائل کے حل کے لیے ڈی آئی جیز کے دفاتر میں قائم خواتین تحفظ سیل کو ذمہ داری دی جائے گی۔ لاڑکانہ اور سکھر میں فوری سیف سٹی پروجیکٹ شروع کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئی تاکہ کاروباری سرگرمیاں مزید تیز ہوں اور سیکیورٹی بہتر ہو۔

