کراچی: قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے خلاف غیر قانونی تعمیرات کے الزامات پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اہم پیش رفت کی ہے اور سابق ڈائریکٹر جنرل آغا مقصود عباس سمیت دیگر افسران کو طلب کر لیا ہے۔
کراچی: آرٹس کونسل میں سید مظہر جمیل کی یاد میں تعزیتی ریفرنس
نیب کی جانب سے نیشنل اکاؤنٹیبلٹی آرڈیننس 1999 کے سیکشن 19 کے تحت کال اپ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ نوٹس کے مطابق ابتدائی جانچ میں کمرشل اور رہائشی عمارتوں کی غیر قانونی منظوری میں کرپشن اور بدعنوانی کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
نیب نے ایس بی سی اے سے متعلقہ ریکارڈ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ گریڈ 17 یا اس سے زائد کا ایک ذمہ دار افسر 25 فروری 2026 کو صبح 10 بجے نیب کراچی کے دفتر میں کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم (CIT) کے سامنے پیش ہو۔ اس کے ساتھ چار مختلف اینکسز (A تا D) میں شامل عمارتوں کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
نیب نے واضح کیا ہے کہ نوٹس پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں اسے دانستہ رکاوٹ تصور کیا جائے گا اور ذمہ داران کے خلاف سیکشن 31 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے، جس میں قید کی سزا بھی شامل ہے۔
دوسری جانب اس پیش رفت کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اپنے تمام ڈائریکٹرز کو ہنگامی مراسلہ جاری کر دیا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر و فوکل پرسن ایم سجاد کی جانب سے جاری ہدایات میں ایسٹ، کورنگی، ملیر، ساؤتھ، سینٹرل، ویسٹ اور کیماڑی اضلاع کے افسران کو کہا گیا ہے کہ وہ نیب کی جانب سے طلب کردہ معلومات فوری طور پر مقررہ فارمیٹ میں فراہم کریں۔
ایس بی سی اے نے واضح کیا ہے کہ تمام مطلوبہ ریکارڈ اور رپورٹس 30 مارچ 2026 شام 5 بجے تک لازمی طور پر جمع کروائی جائیں تاکہ انہیں بروقت نیب حکام کے حوالے کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق یہ تحقیقات کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کے ایک بڑے نیٹ ورک کو بے نقاب کر سکتی ہیں، جبکہ مزید افسران کے بھی دائرہ تحقیقات میں شامل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

