کراچی: سندھ ہائیکورٹ کے آئینی ڈویژن بینچ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کو چار ہفتوں کے اندر غیر قانونی تعمیرات مسمار کرنے کا حکم دے دیا۔
حیدری مارکیٹ میں شاپ مینیجر کی ہلاکت، سی سی ٹی وی فوٹیج منظرعام پر
یہ احکامات پٹیشنر فرحان کی آئینی درخواست پر جاری کیے گئے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ فیڈرل بی ایریا بلاک 7 میں انار کلی سینٹر کے پارکنگ ایریا میں غیر قانونی تعمیرات کر کے قبضہ کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ فوری طور پر پارکنگ ایریا واگزار کرا کے غیر قانونی تعمیرات ختم کی جائیں اور فیصلے کی کاپی ڈی جی ایس بی سی اے کو بھجوائی جائے۔
درخواست گزار کے وکیل لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ کے مطابق متعلقہ افسران نے ابتدائی کارروائی کے بعد مبینہ طور پر کارروائی روک دی تھی، جس پر عدالت سے رجوع کیا گیا۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے پٹیشن نمٹا دی۔
دوسری جانب ایڈیشنل سیشن جج ویسٹ کی عدالت نے قتل کے مقدمے میں ملوث ملزم شہزاد کی عبوری ضمانت کنفرم کر دی۔ عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزم کا نام ایف آئی آر میں شامل نہیں، نہ ہی کوئی براہ راست شواہد موجود ہیں۔ عدالت نے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے عبوری ضمانت کی توثیق کر دی۔
ادھر جوڈیشنل مجسٹریٹ سینٹرل نے چیک باؤنس کیس میں ملزم عمیر زبیر کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔ عدالت میں وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ملزم کا مدعی سے کوئی لین دین نہیں اور نہ ہی چیک پر دستخط اس کے ہیں۔ عدالت نے دلائل کی روشنی میں 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔
عدالتی فیصلوں کو قانونی ماہرین اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں، جن سے غیر قانونی تعمیرات اور فوجداری مقدمات میں شفافیت کو فروغ ملے گا۔
