تشکُّر نیوز رپورٹنگ،
شرجیل میمن نے کہا ہےکہ سائفر کیس سے ملک کی سالمیت جڑی ہوئی ہے۔
رہنما پاکستان پیپلز پارٹی شرجیل میمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس ایک حساس نوعیت کا کیس تھا، کوئی بھی وزیراعظم کرسی کو بچانےکیلئے ملکی سالمیت کوداؤ پر نہیں لگاسکتا، میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔
انہوں نے کہا کہ سائفر کیس اور بھی لمبا چل سکتا تھا، میرےخیال میں بانی پی ٹی آئی کی وکلا ٹیم بھی چاہ رہی تھی ان کو سزا ہوجائےکیونکہ انکی وکلاٹیم ہائیکورٹ بھی ٹائم پر نہیں پہنچی۔
شرجیل میمن نے یہ بھی کہا کہ اس کیس سے ملک کی سالمیت جڑی ہوئی ہے، سائفر کے ذریعے اپنے اقتدار کو بچانا چاہتے تھے، قومی راز کو جلسوں میں اٹھا کر لہرانا غلط ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں پاکستان مسلم لیگ (ن)کا وجود ختم ہوچکا ہے، مسلم لیگ (ن) گھر بیٹھے الیکشن مہم چلا رہی ہے، جوکام مسلم لیگ (ن) نے نہیں کیے ہیں ان کابھی کریڈٹ لے رہی ہے۔
رہنما پاکستان پیپلز پارٹی شرجیل میمن نے مزید کہا کہ پیپپلزپارٹی نہیں چاہتی کہ ہمیں کوئی ناجائز فائدہ پہنچایا جائے، پیپلزپارٹی چاہتی ہےکہ قانون کے مطابق حقوق دیئے جائیں۔
سائفر کیس؛ بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قید کی سزا
عدالت نے سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو دس، دس سال قید بامشقت کی سزا سنا دی۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذولقرنین نے سزا سنائی۔ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سائفر کیس کی سماعت جیل کورٹ روم میں ہوئی۔
پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی اپنی ٹیم کے ہمراہ اور اسٹیٹ کونسل وکلا بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
میڈیا کے نمائندوں، بانی پی ٹی آئی کی بہنیں، شاہ محمود قریشی کی فیملی اور جنرل پبلک کی کثیر تعداد کورٹ روم میں موجود تھی۔
بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی بھی کمرہ عدالت میں حاضر تھے۔
سماعت کے آغاز پر ملزمان بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو دفعہ 342 کا سوال نام دیا گیا۔ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے پہلے اپنا 342 کے تحت بیان عدالت میں ریکارڈ کروایا۔
بانی پی ٹی آئی کے بیان مکمل ہونے کے بعدعدالت نےاستفسارکیا کہ خان صاحب، آپ سے آسان سا سوال ہے، سائفر کہاں ہے؟ جس پر بانی نے جواب دیا کہ میں نے وہی بیان میں کہا ہے کہ مجھے نہیں معلوم، سائفر میرے دفتر میں تھا۔
جج نے کہا کہ خان صاحب، شاہ محمود قریشی صاحب، میری طرف دیکھیں، میں آپ کو 10، 10 سال قید کی سزا سناتا ہوں۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے مختصرفیصلہ سنایااورعدالت سے چلے گئے۔
