کراچی: قادری ہاؤس میں پاکستان سنی تحریک کی رابطہ کمیٹی کا اہم اجلاس مرکزی کوآرڈینیٹر طیب حسین قادری اور عمران قادری کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں تنظیمی ڈھانچہ، کارکردگی، عوامی رابطہ مہمات اور ملکی حالات کے تناظر میں آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم والے 20 مزید جہازوں کو عبور کی اجازت
اجلاس میں رابطہ کمیٹی کے اراکین ریحان قادری، عبدالقادر خیراتی، سلیم رضا قادری، طاہر قادری، شکیل قادری، حاجی شکیل، شاہد ہیرا اور ندیم انصاری نے شرکت کی اور اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے رپورٹس پیش کیں۔ عہدے داران نے مختلف علاقوں میں جاری سرگرمیوں، عوامی رابطہ مہمات اور درپیش مسائل کے حل کے اقدامات سے اجلاس کو آگاہ کیا۔
مرکزی کوآرڈینیٹر طیب حسین قادری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت داخلی و خارجی چیلنجز سے گزر رہا ہے، ایسے میں تنظیمی ذمہ داران اور کارکنان کا کردار اور بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح دی جائے اور کارکنان دن رات محنت کے جذبے کے ساتھ خدمت انجام دیں۔
طیب حسین قادری نے ملک میں اتحاد و یگانگت کے فروغ پر بھی زور دیا اور کہا کہ فرقہ واریت، لسانیت اور ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر صرف پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے کام کیا جائے۔
اجلاس میں عمران قادری نے کہا کہ تنظیمی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کیلئے یونٹ اور سیکٹر سطح پر ہفتہ وار اجلاس ضروری ہیں تاکہ عوامی مسائل پر فوری اور موثر حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کارکنان کو چاہیے کہ وہ عوام کے قریب رہیں، ان کے مسائل سنیں اور ان کے حل کیلئے عملی اقدامات کریں۔
شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان سنی تحریک کو مزید فعال، منظم اور عوام دوست بنانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، تنظیمی ڈھانچے کو نچلی سطح تک مضبوط کیا جائے گا اور کارکنان کی تربیت و رہنمائی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اجلاس کے اختتام پر ملکی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور عزم کیا گیا کہ تحریک ملک و قوم کی خدمت اور اتحاد امت کے فروغ کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
