وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر نے ان کے سلام کا جواب نہیں دیا اور وہ سوا گھنٹے تک انتظار کرتے رہے۔
Wednesday, 25th February 2026
اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ اوپن کورٹ میں روسٹرم پر گئے اور چیف جسٹس سے بات کرنے کی کوشش کی، تاہم چیف جسٹس ان کی بات سنے بغیر عدالت سے اٹھ کر چلے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف احتجاجی سیاست کے بجائے قانونی راستہ اختیار کر رہی ہے، لیکن بقول ان کے عمران خان کے مقدمات سماعت کے لیے مقرر نہیں کیے جا رہے۔
وزیراعلیٰ کے پی نے مزید کہا کہ وہ 190 ملین پاؤنڈ اور توشہ خانہ ٹو کیسز میں درخواستوں کی سماعت مقرر کرانے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ آئے تھے۔
