کراچی: صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار کی زیرِ صدارت ماہِ صیام کے موقع پر ترتیب دیے گئے سیکیورٹی پلان کا اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس سینٹرل پولیس آفس کراچی میں منعقد ہوا، جس میں ویڈیو لنک کے ذریعے بھی شرکت کی گئی۔
سینٹرل پولیس آفس پہنچنے پر انسپکٹر جنرل سندھ جاوید عالم اوڈھو نے وزیر داخلہ کا استقبال کیا اور اجلاس کو رمضان کنٹی جینسی پلان کی ترجیحات، سیکیورٹی اقدامات اور نفری کی تعیناتی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
ٹریفک مسائل پر اظہارِ برہمی
وزیر داخلہ سندھ نے رمضان المبارک کے دوران ٹریفک مسائل پر برہمی اور عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے واضح ہدایت دی کہ افطار و سحر کے اوقات میں شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔ انہوں نے ضلعی ایس ایس پیز کو ہدایت کی کہ وہ ٹریفک پولیس کو مکمل سپورٹ فراہم کریں اور اہم شاہراہوں پر اضافی نفری تعینات کی جائے۔
گداگروں اور مشتبہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن
وزیر داخلہ نے شہر میں گداگروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ انہیں حراست میں لے کر ان کے آبائی شہروں کو واپس بھیجا جائے۔ انہوں نے کراچی کے تمام انٹری پوائنٹس پر سخت چیکنگ، اسنیپ چیکنگ، موبائل گشت اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مزید تیزی لانے کی ہدایت بھی کی۔
عبادت گاہوں اور عوامی مقامات کی فول پروف سیکیورٹی
انہوں نے مساجد، امام بارگاہوں، مزارات، درگاہوں، تراویح اجتماعات اور افطار پوائنٹس کی خصوصی نگرانی یقینی بنانے اور حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کرنے کی ہدایت جاری کی۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے تحت سی سی ٹی وی مانیٹرنگ کو مؤثر بنانے اور غیرقانونی پارکنگ کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی بھی تاکید کی گئی۔
وزیر داخلہ سندھ نے واضح کیا کہ رمضان المبارک کے تینوں عشروں میں زیرو ٹالرنس اور فول پروف سیکیورٹی اقدامات ہر صورت یقینی بنائے جائیں گے اور وہ خود شہر کا سرپرائز وزٹ بھی کریں گے۔
آئی جی سندھ نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ تراویح، جمعۃ المبارک، یومِ قدس، یومِ شہادت حضرت علیؓ، طاق راتوں اور عیدالفطر سمیت تمام رمضان ایونٹس کی سیکیورٹی کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل جاری ہے، جبکہ دوسرے عشرے میں مارکیٹس میں بڑھتے رش کے باعث خصوصی سیکیورٹی فوکس رکھا گیا ہے۔
اجلاس میں ایڈیشنل آئی جیز کراچی، اسپیشل برانچ، آپریشنز سندھ، زونل ڈی آئی جیز، ڈی آئی جی ٹریفک، ضلعی ایس ایس پیز کراچی اور اے آئی جی آپریشن نے بالمشافہ شرکت کی، جبکہ ڈی آئی جی حیدرآباد اور متعلقہ افسران نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
