Pakistan Tehreek-e-Insaf نے بشریٰ بی بی اور علیمہ خان سے متعلق بیانات پر Ali Amin Gandapur کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔
رمضان میں اشیائے خورونوش کے سرکاری نرخ مقرر
ذرائع کے مطابق پارٹی کی مرکزی قیادت نے علی امین گنڈاپور کے حالیہ بیانات اور انٹرویوز کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کے بعد قیادت نے ان کے خلاف ایکشن لینے کا اصولی فیصلہ کیا۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حتمی اقدام سے قبل تمام ویڈیوز اور بیانات کی تفصیلات منگوائی گئیں اور مکمل جانچ پڑتال کے بعد کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔
اس حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی Gohar Ali Khan (بیرسٹر گوہر) نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے اہلِ خانہ سے متعلق کسی بھی قسم کا بیان برداشت نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی Salman Akram Raja نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے بہت سی باتیں کی ہیں اور یقین دلاتا ہوں کہ ان تمام باتوں کا جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ “کوئی قرض نہیں رکھا جائے گا، تاہم آج وہ دن نہیں ہے، مناسب وقت پر مکمل جواب دیا جائے گا۔”
پارٹی حلقوں میں اس پیش رفت کو اندرونی نظم و ضبط اور قیادت کے اختیار کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
