کراچی: گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مونس علوی کے خلاف صوبائی محتسب کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ گورنر سندھ کی جانب سے جاری کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صوبائی محتسب نے کیس میں ریکارڈ پر موجود شواہد کو نظر انداز کیا اور فیصلہ قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں تھا۔
فیصلے کے مطابق صوبائی محتسب کا 31 جولائی 2025 کا فیصلہ باضابطہ طور پر کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ مونس علوی کے خلاف کے الیکٹرک کی ایک سابق ملازمہ نے صوبائی محتسب کے پاس شکایت درج کرائی تھی، جس میں ان پر ہراسانی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
صوبائی محتسب نے اس کیس میں مونس علوی کو عہدے سے ہٹانے اور 25 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی، تاہم اب گورنر سندھ نے تمام قانونی نکات اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد اس فیصلے کو منسوخ کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ قانونی اور انتظامی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد کے الیکٹرک اور صوبائی محتسب کے فیصلے کے حوالے سے ایک نیا قانونی و انتظامی موڑ سامنے آ گیا ہے۔
