کراچی — امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کو یرغمال بنا رکھا ہے اور اس قبضہ مافیا کے نظام کو ختم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ جماعت اسلامی کے زیرِ اہتمام شارع فیصل پر منعقدہ “کراچی کو جینے دو مارچ” سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کراچی کو آگے بڑھتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن حکمرانوں کی نااہلی اور بے حسی شہر کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کرے گا، بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گا
حافظ نعیم الرحمان نے گل پلازا سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس افسوسناک واقعے پر کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کراچی میں رہتے ہیں، مگر گل پلازا نہیں آئے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف بھی متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھنے کراچی نہیں پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا ہوا ہے اور جماعت اسلامی بااختیار شہری حکومت کے قیام کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنا کوئی حل نہیں، شہر میں سرکلر ریلوے تباہ کر دی گئی ہے، کوئی ماسٹر پلان موجود نہیں اور ترقیاتی منصوبے محض دعوؤں تک محدود ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر تاریخی دھرنا دیا جائے گا اور اس بار اختیار لے کر ہی اٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام اب مزید خاموش نہیں رہیں گے اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کریں گے۔
