پاک افغان سرحد پر طویل بندش اور سرحدی تجارت و ٹرانزٹ کی معطلی کے باعث خیبر پختونخوا کو انفرا اسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (IDC) کی مد میں شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔
Friday, 30th January 2026
خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کے مطابق رواں مالی سال کے دوران آئی ڈی سی کلیکشن میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث صوبائی حکومت کو شدید ریونیو خسارے، معاشی جمود اور روزگار کے بحران کا سامنا ہے۔
صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت سے باضابطہ رابطہ کرلیا ہے۔ مراسلے میں سفارش کی گئی ہے کہ وفاقی اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا جائے تاکہ سرحدی تجارت کی بحالی اور مالی نقصان کے ازالے کے لیے مؤثر حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران جولائی سے جنوری تک کے 7 ماہ میں انفرا اسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی مجموعی آمدن 7 ارب 42 کروڑ روپے رہی، جو مقررہ تخمینے سے تقریباً 4 ارب روپے کم ہے۔
حکام کے مطابق اگر سرحدی تجارت اور ٹرانزٹ سسٹم کی بحالی میں تاخیر رہی تو صوبے کو مزید مالی دباؤ، ترقیاتی منصوبوں میں تعطل اور روزگار کے مواقع میں کمی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
