پاپولیشن کونسل کے اعداد و شمار کی بنیاد پر فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے ایک تجزیاتی رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق پاکستان کے ہر چار میں سے ایک ضلع میں بے روزگاری کی شرح 20 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔
بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کے لیے دفعہ 144 نافذ، مذہبی و سیاسی علامات والی پتنگوں پر پابندی
رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں موجود 129 اضلاع میں سے 36 اضلاع شدید بے روزگاری کا شکار ہیں۔ بلوچستان کا ضلع پنجگور 36 فیصد بے روزگاری کے ساتھ ملک میں سرفہرست ہے، جبکہ سب سے کم بے روزگاری کراچی سینٹرل میں ریکارڈ کی گئی، جہاں یہ شرح صرف 6 فیصد ہے۔
فافن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کے 31 اضلاع میں بے روزگاری کی شرح 12.5 فیصد سے 35.9 فیصد کے درمیان ہے، جبکہ صوبے کے 4 اضلاع میں بے روزگار افراد کی تعداد 30 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ بلوچستان کا کوئی بھی ضلع ایسا نہیں جہاں بے روزگاری کی شرح 10 فیصد سے کم ہو۔
دوسری جانب رپورٹ کے مطابق پنجاب کے کسی بھی ضلع میں بے روزگاری کی شرح 20 فیصد سے تجاوز نہیں کرتی۔ پنجاب میں گجرات سب سے کم بے روزگاری والا ضلع ہے، جہاں یہ شرح 6.8 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ مظفرگڑھ میں بے روزگاری کا تناسب 17.2 فیصد بتایا گیا ہے۔
فافن نے خبردار کیا ہے کہ بے روزگاری میں مسلسل اضافہ معاشی عدم استحکام اور سماجی مسائل کو جنم دے سکتا ہے، جس کے لیے فوری اور مؤثر پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے۔
