بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کے لیے دفعہ 144 نافذ، مذہبی و سیاسی علامات والی پتنگوں پر پابندی

بسنت کے موقع پر اشتعال انگیزی، مذہبی ہم آہنگی کو نقصان اور امنِ عامہ میں خلل کے خدشات کے پیشِ نظر دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق بسنت کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھنے اور عوام کے مذہبی جذبات کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اہم پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

امریکا کی یورپ–بھارت تجارتی معاہدے پر کڑی تنقید، روسی تیل معاملے پر سوالات اٹھا دیے گئے

نوٹیفکیشن کے مطابق پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات، کسی بھی مذہبی یا سیاسی شخصیت کی تصویر لگانے پر مکمل پابندی ہو گی۔ اسی طرح کسی ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر والی پتنگیں بھی اڑانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ 30 روز کے لیے مذہبی اور سیاسی نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال ممنوع قرار دیا گیا ہے، جبکہ بسنت کے دوران صرف بغیر تصویر، یک رنگی یا کثیر رنگی پتنگیں استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔

خلافِ قانون پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال کو قابلِ تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بسنت کے دوران اشتعال انگیز عناصر کی جانب سے مذہبی یا سیاسی علامات کے استعمال کا اندیشہ تھا، جس کے پیشِ نظر یہ اقدامات ناگزیر تھے۔

دفعہ 144 کے تحت جاری احکامات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکومتِ پنجاب نے لاہور میں 6 سے 8 فروری تک محفوظ بسنت منانے کی مشروط اجازت دی ہے، جبکہ ڈپٹی کمشنر لاہور نے پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت بسنت 2026 کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق حکومت نے بسنت کو ایک تفریحی تہوار کے طور پر منانے کی اجازت دی ہے، تاہم کسی قسم کی قانون شکنی برداشت نہیں کی جائے گی۔ امنِ عامہ کے قیام اور عوام کے مذہبی جذبات کے احترام کے لیے پابندیوں پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔

پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت دھاتی تار، نائلون یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہے۔ خطرناک ڈور اور پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ مقررہ تاریخ سے قبل پتنگ بازی کرنے پر 5 سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے، جبکہ ممنوعہ مواد کی تیاری یا فروخت میں ملوث افراد کو 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔

59 / 100 SEO Score

One thought on “بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کے لیے دفعہ 144 نافذ، مذہبی و سیاسی علامات والی پتنگوں پر پابندی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!