امریکا کی یورپ–بھارت تجارتی معاہدے پر کڑی تنقید، روسی تیل معاملے پر سوالات اٹھا دیے گئے

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے یورپ اور بھارت کے درمیان متوقع تجارتی معاہدے پر شدید تنقید کرتے ہوئے روسی تیل کی خرید و فروخت کے معاملے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت روس سے خام تیل خرید کر اسے ریفائن کرتا ہے اور بعد ازاں وہی مصنوعات یورپ کو فروخت کی جاتی ہیں، جس سے بالواسطہ طور پر روسی معیشت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

بالی ووڈ اداکار ندیم خان گھریلو ملازمہ سے زیادتی کے الزام میں گرفتار

اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق امریکا نے روسی تیل کی خریداری پر بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے، جبکہ دوسری جانب یورپی ممالک اسی بھارت کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کرنے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ نے براہِ راست روس سے توانائی کی خریداری تو کم کر دی ہے، تاہم بھارت میں ریفائن ہونے والی روسی تیل کی مصنوعات خرید کر اب بھی ماسکو کو مالی فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت اور یورپی یونین آج اپنے طویل عرصے سے زیرِ التوا آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔ اس معاہدے پر مذاکرات کا آغاز 2007 میں ہوا تھا، جو مختلف وجوہات کے باعث اب تک مکمل نہ ہو سکے تھے۔

دوسری جانب امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان تجارتی معاہدے میں تاخیر پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اس تناظر میں امریکا نے گاڑیوں اور فارماسیوٹیکلز پر ٹیرف 15 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دیا ہے۔

54 / 100 SEO Score

One thought on “امریکا کی یورپ–بھارت تجارتی معاہدے پر کڑی تنقید، روسی تیل معاملے پر سوالات اٹھا دیے گئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!